یاد رکھو ! وقت کس تیزی سے گزر رہا ہے۔ میرے دوست نے کار کی کھڑکی سے برگر کا خالی پیکٹ اچھالتے ہوئے کہا۔ سال یوں گزرجاتا ہے جس طرح ایک مہینہ اور مہینہ یوں کہ جیسے ہفتہ گزرا ہو۔۔۔۔
شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے سرسری طور پر جواب دیا۔
کمال ہے تم شاید کہہ رہے ہو ، ارے چاچا تم ہی بتاؤ کہ وقت کیسے بھاگ رہا ہے? ۔۔۔۔۔ دوست نے باہر کھڑے بوڑھے فقیر سے شوخی سے پوچھا، جو کافی دیر سے ہاتھ پھیلائے سامنے کھڑا تھا۔
بیٹا جب دنیا کی تمام آسائشیں تمہارے پاس ہوں تو وقت واقعی دوڑنا نظر آتا ہے۔ وقت کی رفتار تو بیٹا ہم سے پوچھو۔ بوڑھے فقیر نے پھٹی آستین سے ڈبڈباتی آنکھیں پوچھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ کہ ایک صبح کا شام تک لانے میں کتنا وقت لگتا ہے۔







LinkBack URL
About LinkBacks
Quote



Bookmarks